صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. بَابُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي يَهْدِينَ الْمَرْأَةَ إِلَى زَوْجِهَا:
باب: وہ عورتیں جو دلہن کا بناؤ سنگھار کر کے اسے شوہر کے پاس لے جائیں۔
حدیث نمبر: 5162
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا زَفَّتِ امْرَأَةً إِلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ مَا كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ يُعْجِبُهُمُ اللَّهْوُ".
ہم سے فضیل بن یعقوب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ ایک دلہن کو ایک انصاری مرد کے پاس لے گئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ! تمہارے پاس لہو (دف بجانے والا) نہیں تھا، انصار کو دف پسند ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5162]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک دلہن کو انصاری دلہا کے پاس لے گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! کیا تمہارے پاس کوئی دل لگی کا سامان نہیں تھا؟ کیونکہ انصار کو ایسے موقع پر دل لگی پسند ہوتی ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5162]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة