مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (صَلَاةُ اللَّيْلِ لِسَيِّدِنَا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رات کی نماز
حدیث نمبر: 1240
1240 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ أَبَاهُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أَيْقَظَ أَهْلَهُ لِلصَّلَاةِ، يَقُولُ لَهُمْ: الصَّلَاةُ، ثُمَّ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ: (وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى) رَوَاهُ مَالِكٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جس قدر اللہ چاہتا نمازِ تہجد پڑھتے رہتے حتیٰ کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو آپ اپنے اہل خانہ کو نماز کے لیے اٹھاتے تو انہیں کہتے: نماز (پڑھو یا نماز کا وقت ہو گیا ہے)۔ پھر آپ یہ آیت تلاوت فرماتے: ﴿وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى﴾ [سورة طه: 132] ”اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیں، اور اس پر قائم رہیں، ہم آپ سے روزی کے طالب نہیں، بلکہ ہم آپ کو رزق دیتے ہیں، اور عاقبت تو پرہیز گاروں ہی کے لیے ہے۔“ صحیح، رواہ مالک۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1240]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه مالک (1/ 119 ح 258) و سنده صحيح.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح