مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ قُنُوتِ قَبْلَ الرُّكُوعِ)
قبل از رکوع قنوت کا بیان
حدیث نمبر: 1289
1289 - وَعَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْقُنُوتِ فِي الصَّلَاةِ، كَانَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ؟ قَالَ: قَبْلَهُ، إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا، إِنَّهُ كَانَ بَعَثَ أُنَاسًا يُقَالُ لَهُمْ: الْقُرَّاءُ، سَبْعُونَ رَجُلًا، فَأُصِيبُوا، فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عاصم احول رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں قنوت کے متعلق دریافت کیا کہ وہ رکوع سے پہلے تھا یا اس کے بعد؟ انہوں نے فرمایا: رکوع سے پہلے تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (فرض نماز) میں رکوع کے بعد صرف ایک ماہ قنوت کیا، وہ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ستر صحابہ کرام کو، جو کہ قراء کے نام سے مشہور تھے، بھیجا تو انہیں شہید کر دیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک ماہ تک قنوت کیا اور ان کے قاتلوں کے لیے بددعا کرتے رہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1289]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1002) و مسلم (301/ 677)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه