مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ أَنَّ الْجُمُعَةَ يَوْمُ عِيدٍ)
اس چیز کا بیان کہ جمعہ عید کا دن ہے
حدیث نمبر: 1368
1368 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ قَرَأَ: (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ) الْآيَةَ، وَعِنْدَهُ يَهُودِيٌّ. فَقَالَ: لَوْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَيْنَا لَاتَّخَذْنَاهَا عِيدًا. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنَّهَا نَزَلَتْ فِي يَوْمِ عِيدَيْنِ، فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، وَيَوْمِ عَرَفَةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہ انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ”آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے۔ “ تو اس وقت ان کے پاس ایک یہودی تھا، اس نے کہا: اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس (یوم نزول) کو عید بنا لیتے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو عیدین کے روز نازل ہوئی ہے، جمعہ کے دن اور عرفہ کے دن۔ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1368]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (3044)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح