مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا يُجَازُ أَنْ يُذْبَحَ قَبْلَ صَلَاةِ الْعِيدِ)
عید کی نماز سے پہلے قربانی کرنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 1437
1437 - وَعَنِ الْبَرَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَإِنَّمَا يَذْبَحُ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے نماز عید سے پہلے ذبح کر لیا تو اس نے محض اپنی ذات کی خاطر ذبح کیا، اور جس نے نماز عید کے بعد ذبح کیا تو اس کی قربانی مکمل ہوئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کے مطابق کی۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1437]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5546) و مسلم (1961/4)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه