مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فَضِيلَةُ أَيَّامِ عَشْرِ ذُو الْحِجَّةِ)
ذوالحجہ کے دس ایام کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1460
1460 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشَرَةِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”باقی دنوں میں کیے گئے عمل کی نسبت ان دس ایام میں کیا گیا عمل اللہ کو انتہائی پسندیدہ ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی اتنا پسندیدہ نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد بھی نہیں، الا یہ کہ کوئی شخص اپنے مال و جان کے ساتھ جہاد کے لیے جائے اور اس کی کوئی چیز واپس نہ آئے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1460]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (969)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح