مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (تَسْلِيَةُ الْمَرِيضِ سُنَّةٌ)
بیمار کو تسلیی دینا سنت ہے
حدیث نمبر: 1572
1572 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ فَنَفِّسُوا لَهُ فِي أَجَلِهِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَيُطَيِّبُ بِنَفْسِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اس کی درازیِ عمر کی بات کرو، بلاشبہ یہ تقدیر تو نہیں بدل سکتا لیکن اس کا دل خوش ہو جائے گا۔“ ترمذی، ابن ماجہ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1572]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2087) و ابن ماجه (1438)
٭ موسي بن محمد: منکر الحديث.»
٭ موسي بن محمد: منکر الحديث.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف