مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (سُؤَالُ اللَّهِ تَعَالَى عَنْ عِبَادِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن بندوں سے اپنی ملاقات کے بارے میں پوچھنا
حدیث نمبر: 1606
الْفَصْلُ الثَّانِي 1606 - عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُمْ مَا أَوَّلُ مَا يَقُولُ اللَّهُ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَا أَوَّلُ مَا يَقُولُونَ لَهُ، قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:"إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ: هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَائِي؟ يَقُولُونَ: نَعَمْ يَا رَبَّنَا. فَيَقُولُ: لِمَ؟ فَيَقُولُونَ: رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمَغْفِرَتَكَ. فَيَقُولُ: قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ، وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي الْحِلْيَةِ.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ روز قیامت سب سے پہلے اللہ مومنوں سے کیا فرمائے گا اور وہ سب سے پہلے اس سے کیا عرض کریں گے؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ مومنوں سے فرمائے گا: کیا تم مجھے ملنا پسند کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے: جی ہاں، ہمارے پروردگار! وہ پوچھے گا: کس لیے؟ وہ عرض کریں گے: ہمیں آپ کے عفو و درگزر اور مغفرت کی امید تھی، وہ فرمائے گا: پس میری مغفرت تمہارے لیے واجب ہو گئی۔“ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1606]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (268/5. 269 ح 1452) و أبو نعيم في حلية الأولياء (179/8) [و أحمد 238/5]
٭ فيه عبيد الله بن زحر ضعيف ضعفه الجمھور.»
٭ فيه عبيد الله بن زحر ضعيف ضعفه الجمھور.»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف