مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (وَقِيعَةُ مَوْتِ سَيِّدِنَا أَبُوسُلَيْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی موت کا واقعہ
حدیث نمبر: 1619
1619 - وَعَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرَهُ فَأَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ ; فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ فَقَالَ:"لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ ; فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ": ثُمَّ قَالَ:"اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، وَأَفْسِحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو ان کی نظر (اوپر کی طرف) پتھرا چکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھیں بند کیں پھر فرمایا: ”جب روح قبض کی جاتی ہے تو نظر اس کے پیچھے چلی جاتی ہے۔“ (یہ سن کر) ان کے اہل خانہ رونے (چلانے) لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے لیے دعا خیر ہی کرو، کیونکہ تم جو کہتے ہو، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ» ”اے اللہ! ابوسلمہ کی مغفرت فرما، ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ بلند فرما، اس کے پیچھے باقی رہ جانے والوں میں تو اس کا جانشین بن جا، اے تمام جہانوں کے پروردگار! ہمیں اور اسے بخش دے، اس کی قبر کو اس کے لیے کشادہ فرما اور اس میں اس کے لیے روشنی پیدا فرما۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1619]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (920/7)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح