مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (وَصْفُ السَّاعَةِ الأَخِيرَةِ لِسَيِّدِنَا كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے آخری وقت کا بیان
حدیث نمبر: 1631
1631 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبًا الْوَفَاةُ أَتَتْهُ أُمُّ بِشْرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنْ لَقِيتَ فُلَانًا فَاقْرَأْ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ، فَقَالَ: غَفَرَ اللَّهُ لَكِ يَا أُمَّ بِشْرٍ، نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: بَلَى. قَالَتْ: فَهُوَ ذَاكَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ.
عبدالرحمن بن کعب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب کعب رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت ہوا تو ام بشر بنت براء بن معرور رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں، تو انہوں نے کہا: ابوعبدالرحمن! اگر تم فلاں (ان کے باپ براء کی روح) سے ملاقات کرو تو اسے میرا سلام کہنا، انہوں نے کہا: ام بشر! اللہ آپ کو معاف فرمائے، ہمیں اس کی فرصت کہاں ملے گی؟ ام بشر نے فرمایا: ابوعبدالرحمن! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا: ”مومنوں کی روحیں سبز پرندوں (کے جسم میں) جنت کے درختوں سے کھاتی ہوں گی۔“ انہوں نے کہا: ہاں! سنا ہے۔ تو ام بشر نے فرمایا: پس یہی وہ ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1631]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه ابن ماجه (1449) والبيھقي في کتاب البعث والنشور (223. 226)
٭ محمد بن إسحاق مدلس و لم أجد تصريح سماعه فالسند ضعيف و لأصل الحديث شواھد عند أحمد (424/6. 425و 455/3) وغيره»
٭ محمد بن إسحاق مدلس و لم أجد تصريح سماعه فالسند ضعيف و لأصل الحديث شواھد عند أحمد (424/6. 425و 455/3) وغيره»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف