مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَجْرُ الْمُشَارِكِ فِي التَّدْفِينِ)
تدفین میں شرکت کا ثواب
حدیث نمبر: 1651
1651 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، وَكَانَ مَعَهُ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا ، وَيُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ مِنَ الْأَجْرِ بِقِيرَاطَيْنِ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایمان و ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے میں شریک ہوتا ہے، اس کے ساتھ رہتا ہے حتیٰ کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے اور اس کے دفنانے سے فارغ ہو جاتا ہے تو وہ دو قیراط اجر کے ساتھ واپس آتا ہے، ہر قیراط احد پہاڑ کی مثل ہے، اور جو شخص نماز جنازہ پڑھتا ہے اور اس کے دفن ہونے سے پہلے واپس آ جاتا ہے تو وہ ایک قیراط اجر کے ساتھ واپس آتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1651]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1325) و مسلم (945/52)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه