مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (سَبَبُ وَقُوفِ الْيَهُودِ عَلَى جِنَازَةِهِمْ)
یہودی کے جنازے پر کھڑے ہونے کی وجہ
حدیث نمبر: 1684
[ ص: 1212 ] 1684 - وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ كَانَ جَالِسًا فَمُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ النَّاسُ حَتَّى جَاوَزَتِ الْجَنَازَةُ، فَقَالَ الْحَسَنُ: إِنَّمَا مُرَّ بِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى طَرِيقِهَا جَالِسًا وَكَرِهَ أَنْ تَعْلُوَ رَأْسَهُ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَامَ . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ جنازہ گزر گیا، تو حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک یہودی کا جنازہ گزرا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے راستے پر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ کسی یہودی شخص کا جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک سے بلند ہو جائے لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے۔“ صحیح، رواہ النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1684]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه النسائي (47/4 ح 1928)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح