صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ خِيَارِ الأَمَةِ تَحْتَ الْعَبْدِ:
باب: اگر لونڈی غلام کے نکاح میں ہو پھر وہ لونڈی آزاد ہو جائے تو اسے اختیار ہو گا خواہ وہ نکاح باقی رکھے یا فسخ کر ڈالے۔
حدیث نمبر: 5280
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" رَأَيْتُهُ عَبْدًا يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ اور ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔ آپ کی مراد بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر (مغیث) سے تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5280]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے اسے یعنی بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کو بحالت غلام دیکھا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5280]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5281
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" ذَاكَ مُغِيثٌ عَبْدُ بَنِي فُلَانٍ يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَبْكِي عَلَيْهَا".
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہ مغیث بنی فلاں کے غلام تھے۔ آپ کا اشارہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کی طرف تھا۔ گویا اس وقت بھی میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ مدینہ کی گلیوں میں وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے روتے پھر رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5281]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”وہ یعنی حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر مغیث تھا جو فلاں قبیلے کا غلام تھا۔ گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ مدینہ طیبہ کے گلی کوچوں میں ان کے پیچھے روتا پھرتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5281]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5282
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ عَبْدًا لِبَنِي فُلَانٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ وَرَاءَهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک حبشی غلام تھے۔ ان کا مغیث نام تھا، وہ بنی فلاں کے غلام تھے۔ جیسے وہ منظر اب بھی میری آنکھوں میں ہے کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5282]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک سیاہ فام غلام تھا جسے مغیث کہا جاتا تھا وہ بنو فلاں کا غلام تھا۔ گویا میں اسے اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ مدینہ طیبہ کے راستوں میں حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے گھومتا پھرتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5282]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة