مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الْبُكَاءُ رَحْمَةٌ مِنَ اللهِ)
رونا اللہ کی رحمت ہے
حدیث نمبر: 1723
1723 - وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ إِنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ فَأْتِنَا، فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ وَيَقُولُ: إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى ; فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا ; فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَرِجَالٌ، فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَتَقَعْقَعُ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذَا؟ فَقَالَ: هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، فَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لخت جگر نے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ میرا بیٹا قریب المرگ ہے، لہذا آپ تشریف لائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کہلوایا اور یہ پیغام دیا: «إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ» ”یقیناً اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا، اور جو اس نے دے رکھا ہے وہ بھی اسی کا ہے، اور اس کے ہاں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، پس اسے چاہیے کہ وہ صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے۔“ انہوں نے دوبارہ پیغام بھیجا اور قسم دے کر عرض کیا کہ آپ ضرور تشریف لائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور کچھ اور لوگ آپ کے ساتھ تشریف لائے، بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں دے دیا گیا جبکہ اس کا سانس اکھڑ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں تو سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ» ”یہ رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا فرمائی ہے، اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم فرماتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1723]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1284) و مسلم (923/11)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه