مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (سِيَاسَةُ رَسُولِ اللهِ ﷺ فِي تَجَنُّبِ الْعَادَاتِ السَّيِّئَةِ)
بری رسموں کو اپنانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی
حدیث نمبر: 1750
1750 - وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَأَبِي بَرْزَةَ، قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأَى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدَيْتَهُمْ يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ، أَوْ بِصَنِيعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ، قَالَ: فَأَخَذُوا أَرْدِيَتِهِمْ، وَلَمْ يَعُودَا لِذَلِكَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
عمران بن حصین اور ابوبرزہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی اوپر والی چادریں اتار پھینکی ہیں اور صرف قمیص پہن کر چل رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ منظر دیکھ کر) فرمایا: ”کیا تم جاہلیت کا سا کام کر رہے ہو یا جاہلیت کے کام سے مشابہت اختیار کر رہے ہو؟ میں نے ارادہ کیا کہ تمہارے لیے بددعا کروں کہ تمہاری صورتیں مسخ ہو جائیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی چادریں لے لیں اور پھر دوبارہ ایسا نہیں کیا۔ «إِسْنَادُهُ مَوْضُوعٌ» ”اس کی سند من گھڑت ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1750]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده موضوع، رواه ابن ماجه (1485)
٭ نفيع بن الحارث أبو داود الأعمي کذاب و علي بن الحزور: متروک.»
٭ نفيع بن الحارث أبو داود الأعمي کذاب و علي بن الحزور: متروک.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده موضوع