مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَنْعُ النَّبِيِّ ﷺ مِنْ دُعَاءِ الْمَغْفِرَةِ لِأُمِّهِ الْمَجِدَّةِ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی والدہ ماجدہ کے لیے دعائے مغفرت سے منع کر دیا گیا
حدیث نمبر: 1763
1763 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهَ، فَقَالَ:"اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي ، وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأُذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی روئے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی رلایا، پھر فرمایا: ”میں نے ان کی مغفرت طلب کرنے کے متعلق اپنے رب سے اجازت طلب کی تو مجھے اس کی اجازت نہ ملی، پھر میں نے ان کی قبر کی زیارت کے متعلق اس سے اجازت طلب کی تو مجھے اجازت مل گئی، پس تم قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ وہ موت یاد دلاتی ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1763]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (976/106)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح