مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا يَجُوزُ أَخْذُ الزَّكَاةِ مِنَ الصِّحِّيِّ)
صحت مند کو زکوٰۃ لینا جائز نہیں
حدیث نمبر: 1832
1832 - وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَهُوَ يُقَسِّمُ الصَّدَقَةَ فَسَأَلَاهُ مِنْهَا، فَرَفَعَ فِينَا النَّظَرَ، وَخَفَضَهُ فَرَآنَا جَلْدَيْنِ، فَقَالَ:"إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
عبیداللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں نے مجھے بتایا کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت صدقہ تقسیم فرما رہے تھے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صدقہ کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں طاقت ور دیکھ کر فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن اس میں کسی مال دار شخص اور کمائی کی طاقت رکھنے والے شخص کے لیے کوئی حصہ نہیں۔“ (صحیح، رواہ ابو داود والنسائی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الزكاة/حدیث: 1832]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (1633) و النسائي (99/5 ح 2599)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح