🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. بَابُ قَوْلِ الإِمَامِ لِلْمُتَلاَعِنَيْنِ إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ:
باب: حاکم لعان کرنے والوں سے یہ کہنا تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو کیا وہ توبہ کرتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5312
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ حَدِيثِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ:" حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا، قَالَ: مَالِي؟ قَالَ: لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ"، قَالَ سُفْيَانُ: حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرٍو. وَقَالَ أَيُّوبُ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ لَاعَنَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ، وَفَرَّقَ سُفْيَانُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، فَرَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ، وَقَالَ:" اللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ"، قَالَ سُفْيَانُ: حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرٍو وأَيُّوبَ كَمَا أَخْبَرْتُكَ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کرنے والوں کا حکم پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ اب تمہیں تمہاری بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔ ان صحابی نے عرض کیا کہ میرا مال واپس کرا دیجئیے (جو مہر میں دیا گیا تھا)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب وہ تمہارا مال نہیں ہے۔ اگر تم اس کے معاملہ میں سچے ہو تو تمہارا یہ مال اس کے بدلہ میں ختم ہو چکا کہ تم نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا تھا اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی پھر تو وہ تم سے بعید تر ہے۔ سفیان نے بیان کیا کہ یہ حدیث میں نے عمرو سے یاد کی اور ایوب نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جس نے اپنی بیوی سے لعان کیا ہو تو آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا۔ سفیان نے اس اشارہ کو اپنی دو شہادت اور بیچ کی انگلیوں کو جدا کر کے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنی عجلان کے میاں بیوی کے درمیان جدائی کرائی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا وہ رجوع کر لے گا؟ آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ سفیان بن عیینہ نے مجھ سے کہا، میں نے یہ حدیث جیسے عمرو بن دینار اور ایوب سے سن کر یاد رکھی تھی ویسی ہی تجھ سے بیان کر دی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5312]
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے لعان کرنے والوں کا حکم پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں سے فرمایا تھا: تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے لیکن تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ اب تمہاری بیوی پر تمہیں کوئی اختیار نہیں رہا۔ اس نے عرض کی: میرے مال کے متعلق کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب وہ تمہارا مال نہیں رہا۔ اگر تم اس معاملے میں سچے ہو تو تمہارا یہ مال، اس کے بدلے میں ختم ہو چکا ہے جو تم نے اس کی شرم گاہ کو اپنے لیے حلال کیا تھا۔ اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی تو یہ مال تجھ سے اور زیادہ دور ہو گیا ہے۔ سفیان نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے یاد کی۔ ایوب نے کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جس نے اپنی بیوی سے لعان کیا ہو تو انہوں نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کیا۔ سفیان نے (اس اشارے کو) اپنی شہادت والی اور درمیانی دونوں انگلیوں کو جدا کر کے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو عجلان کے میاں بیوی کے درمیان جدائی کی تھی اور فرمایا تھا: اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی تائب ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔ سفیان نے کہا: میں نے یہ حدیث جس طرح عمرو بن دینار اور ایوب سختیانی سے سنی تھی، اسی طرح میں نے آپ (یعنی علی بن مدینی) کو بیان کر دی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5312]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں