مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَثَلٌ عَظِيمٌ فِي الصَّدَقَةِ وَالْخَيْرَاتِ)
صدقہ و خیرات کی ایک عظیم مثال
حدیث نمبر: 1875
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1875 - عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْنَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيُّنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا؟ قَالَ:"أَطْوَلُكُنَّ يَدًا"، فَأَخَذُوا قَصَبَةً يَذْرَعُونَهَا، وَكَانَتْ سَوْدَةُ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا، فَعَلِمْنَا بَعْدُ أَنَّمَا كَانَ طُولُ يَدِهَا الصَّدَقَةَ، وَكَانَتْ أَسْرَعَنَا لُحُوقًا بِهِ زَيْنَبُ، وَكَانَتْ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَسْرَعُكُنَّ لُحُوقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا". قَالَتْ: وَكَانَتْ يَتَطَاوَلْنَ أَيَّتُهُنَّ أَطْوَلُ يَدًا؟ قَالَتْ: فَكَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ ; لِأَنَّهَا كَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَتَصَدَّقُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض ازواج مطہرات نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: ہم میں سے سب سے پہلے آپ سے کون ملیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس کے ہاتھ زیادہ دراز ہیں۔“ وہ لکڑی لے کر اپنے بازو ناپنے لگیں تو سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاتھ ان میں سے زیادہ دراز تھے، پھر ہمیں بعد میں پتا چلا کہ ان کے ہاتھ لمبے ہونے سے مراد صدقہ تھا، اور ہم میں سے زینب رضی اللہ عنہا سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملیں اور وہ صدقہ کرنا پسند کرتی تھیں۔ بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے: عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں لمبے ہاتھ والی مجھے سب سے پہلے ملے گی۔“ وہ بیان کرتی ہیں کہ وہ یہ جاننے کے لیے کہ ان میں سے کس کے ہاتھ دراز ہیں، وہ باہم ہاتھ ناپا کرتی تھیں، پس زینب رضی اللہ عنہا کے ہاتھ ہم میں سے زیادہ لمبے تھے کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کیا کرتی تھیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الزكاة/حدیث: 1875]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1420) و مسلم (2452/101)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه