مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لاَ يُرْجَعُ السَّائِلُ بِيَدٍ خَاوِيَةٍ)
مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹائے
حدیث نمبر: 1879
1879 - وَعَنْ أُمِّ مُجَيْدٍ قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لِيَقِفُ عَلَى بَابِي حَتَّى أَسْتَحْيِيَ فَلَا أَجِدُ فِي بَيْتِي مَا أَدْفَعُ فِي يَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"ادْفَعِي فِي يَدِهِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام بجید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہو جاتا ہے حتیٰ کہ مجھے حیا آتی ہے کہ میں اس کے ہاتھ پر رکھنے کے لیے گھر میں کوئی چیز نہیں پاتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو خواہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔“ احمد، ترمذی، ابوداؤد، اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ حدیث حسن صحیح ہے۔“ صحیح، رواہ احمد و ابوداؤد والترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الزكاة/حدیث: 1879]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (382/6. 383 ح 27689. 27691) و أبو داود (1667) والترمذي (665)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح