مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (حَفْرُ الْبِئْرِ أَوْ تَوْفِيرُ الْمَاءِ أَيْضًا صَدَقَةٌ)
کنواں کھدوانا یا پانی مہیا کرنا بھی صدقہ ہے
حدیث نمبر: 1912
1912 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ، فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ:"الْمَاءُ"فَحَفَرَ بِئْرًا وَقَالَ: هَذِهِ لِأُمِّ سَعْدٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ام سعد رضی اللہ عنہا وفات پا چکی ہیں، (ان کے لیے) کون سا صدقہ کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پانی۔“ انہوں نے ایک کنواں کھدوایا اور فرمایا: یہ ام سعد کے لیے ہے۔ (حسن، رواہ ابوداؤد والنسائی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الزكاة/حدیث: 1912]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (1678) والنسائي (254/6ح 3694) و للحديث طرق کثيرة وھو حديث حسن.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن