🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (الصَّدَقَةُ تَفُوقُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ)
صدقہ ساری چیزوں پر بھاری پڑتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1923
1923 - وَعَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيدُ، فَخَلَقَ الْجِبَالَ فَقَالَ: بِهَا عَلَيْهَا، فَاسْتَقَرَّتْ فَعَجِبَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ شِدَّةِ الْجِبَالِ، فَقَالُوا: يَا رَبِّ! هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنِ الْجِبَالِ؟ قَالَ: نَعَمِ، الْحَدِيدُ. فَقَالُوا: يَا رَبِّ! هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْحَدِيدِ؟ قَالَ: نَعَمِ، النَّارُ. فَقَالُوا: يَا رَبِّ! هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: نَعَمِ، الْمَاءُ. فَقَالُوا: يَا رَبِّ! هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْمَاءِ؟ قَالَ: نَعَمِ، الرِّيحُ. فَقَالُوا: يَا رَبِّ! هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الرِّيحِ؟ قَالَ: نَعَمِ، ابْنُ آدَمَ تَصَدَّقَ صَدَقَةً بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا عَنْ شِمَالِهِ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَذُكِرَ حَدِيثُ مُعَاذٍ"الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ"فِي كِتَابِ"الْإِيمَانِ".
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے زمین پیدا فرمائی تو وہ ہلنے لگی، تو اس نے پہاڑ پیدا کیے اور انہیں اس (زمین) پر رکھنے کا حکم فرمایا تو وہ ٹھہر گئی، فرشتوں کو پہاڑوں کی شدت پر تعجب ہوا تو انہوں نے عرض کیا: اے رب! کیا تیری مخلوق میں پہاڑوں سے شدید تر کوئی چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں، لوہا، انہوں نے پھر عرض کیا: اے رب! کیا تیری مخلوق میں لوہے سے بھی شدید تر کوئی چیز ہے؟ فرمایا: ہاں، آگ، انہوں نے عرض کیا: کیا تیری مخلوق میں آگ سے بھی شدید تر کوئی چیز ہے؟ فرمایا: ہاں، پانی، انہوں نے عرض کیا: اے رب! کیا تیری مخلوق میں پانی سے شدید تر کوئی چیز ہے؟ فرمایا: ہاں، ہوا، پھر انہوں نے عرض کیا: اے رب! کیا تیری مخلوق میں ہوا سے بھی شدید تر کوئی چیز ہے؟ فرمایا: ہاں، وہ ابنِ آدم جو اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ کرتا ہے تو اسے اپنے بائیں ہاتھ سے مخفی رکھتا ہے۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے، اور معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: ”صدقہ خطائیں مٹا دیتا ہے۔“ کتاب الایمان میں ذکر کی گئی ہے۔ اس کی سند حسن ہے، اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الزكاة/حدیث: 1923]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3369)
ه الصدقة تطفئ الخطيئة، تقدم (29)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں