مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (إِعْطَاءُ الزَّكَاةِ لِلزَّوْجِ)
اپنے شوہر کو زکٰوۃ دینا
حدیث نمبر: 1934
1934 - وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ"، قَالَتْ: فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ: إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ، فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنِّي وَإِلَّا صَرَفْتُهَا إِلَى غَيْرِكُمْ. قَالَتْ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ: بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ، قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاجَتِي وَحَاجَتُهَا، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ، قَالَتْ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا لَهُ: ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلَانِكَ: أَتُجْزِئُ الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَنْ أَزْوَاجِهِمَا وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا؟ وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ، قَالَتْ: فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ هُمَا؟"; قَالَ: امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَزَيْنَبُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَيُّ الزَّيَانِبِ؟"قَالَ: امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَهُمَا"،"أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ"،"وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے خواتین کی جماعت! صدقہ کرو، خواہ اپنے زیورات میں سے کرو۔“ وہ بیان کرتی ہیں کہ میں (اپنے شوہر) عبداللہ کے پاس واپس آئی تو میں نے کہا: آپ غریب آدمی ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ہے، آپ ان کے پاس جا کر مسئلہ دریافت کریں، اگر تو (میرا آپ کو دینا) جائز ہو تو میں آپ پر صدقہ کروں ورنہ پھر آپ کے علاوہ کسی اور پر کروں؟ وہ بیان کرتی ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا: آپ خود ہی جائیں، وہ بیان کرتی ہیں، میں گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر ایک انصاری خاتون کھڑی تھی، اسے بھی میرے والا مسئلہ ہی درپیش تھا، وہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑی بارعب شخصیت تھے، پس بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے انہیں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ کہ دروازے پر دو عورتیں آپ سے مسئلہ دریافت کرتی ہیں کہ وہ اپنا صدقہ اپنے خاوندوں اور ان کے زیرِ پرورش یتیم بچوں کو دے سکتی ہیں؟ لیکن انہیں ہمارے متعلق نہ بتانا کہ ہم کون ہیں، زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”وہ دونوں کون ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا، ایک انصاری خاتون اور ایک زینب ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کون سی زینب؟“ انہوں نے عرض کیا، عبداللہ کی اہلیہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کے لیے دگنا اجر ہے، قرابت داری کا اجر اور صدقے کا اجر۔“ بخاری، مسلم، الفاظِ حدیث مسلم کے ہیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الزكاة/حدیث: 1934]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1466) و مسلم (1005/45)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه