مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الإِفْطَارُ بِالتَّمْرِ وَالْمَاءِ سُنَّةٌ)
کھجور اور پانی سے روزہ کھولنا سنت ہے
حدیث نمبر: 1991
1991 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُفْطِرُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى رُطَبَاتٍ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ رُطَبَاتٌ فَتُمَيْرَاتٌ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تُمَيْرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز (مغرب) پڑھنے سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے افطار کیا کرتے تھے، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو پھر چند چھوہاروں سے اور اگر چھوہارے نہ ہوتے تو پھر پانی کے چند گھونٹ پی لیا کرتے تھے۔ ترمذی، ابوداؤد اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ حدیث حسن غریب ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1991]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (696) و أبو داود (2356)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن