مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (كَفَّارَةُ إِقَامَةِ الْعِلَاقَةِ الزَّوْجِيَّةِ فِي الصِّيَامِ)
روزے کی حالت میں ازدواجی تعلقات قائم کرنے کا کفارہ
حدیث نمبر: 2004
2004 - وَعَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ، قَالَ:"مَا لَكَ؟"قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟"قَالَ: لَا، قَالَ:"فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟"قَالَ: لَا، قَالَ:"هَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟"قَالَ: لَا قَالَ:"اجْلِسْ"وَمَكَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَبَيْنَمَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ، قَالَ:"أَيْنَ السَّائِلُ؟"، قَالَ: أَنَا، قَالَ:"خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ أَهْلُ بَيْتِ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي؟! فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ:"أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ اتنے میں ایک آدمی نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ اس نے عرض کیا: میں روزے کی حالت میں اپنی اہلیہ سے جماع کر بیٹھا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے تم آزاد کر سکو؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توقف فرمایا، ہم اسی اثنا میں تھے کہ کھجوروں کا ایک بڑا ٹوکرا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سائل کہاں ہے؟“ اس شخص نے عرض کیا: میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لو اور اسے صدقہ کر دو۔“ اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنے سے زیادہ محتاج شخص پر صدقہ کروں؟ اللہ کی قسم! (مدینہ کے) دو پتھریلے کناروں کے درمیان کوئی ایسا گھر نہیں جو میرے گھر والوں سے زیادہ ضرورت مند ہو، (یہ سن کر) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے دانت مبارک ظاہر ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2004]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1936) و مسلم (181/ 1111)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه