مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا جَوَازَ لِلشَّابِّ الْمَخَاوَفِ مِنَ الْجِمَاعِ فِي الصِّيَامِ)
جماع کے ڈر سے جوان مرد کو بوس و کنار کی اجازت نہیں دی گئی
حدیث نمبر: 2006
2006 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ فَرَخَّصَ، وَأَتَاهُ آخَرُ فَسَأَلَهُ فَنَهَاهُ، فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ، وَإِذَا الَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کسی آدمی نے روزہ دار کے لیے اپنی اہلیہ سے گلے ملنے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے اسے رخصت عنایت فرما دی، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے آپ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے اسے روک دیا، جس شخص کو رخصت عنایت فرمائی تھی وہ بوڑھا آدمی تھا اور جسے روک دیا تھا وہ ایک نوجوان شخص تھا۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2006]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2387)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن