مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الْمُؤْمِنُ وَالْغَيْرُ يُقَابِلُونَ فِي الصِّيَامِ)
روزہ رکھنے والے اور نہ رکھنے والے کا آپس میں رویہ
حدیث نمبر: 2020
2020 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَسِتَّ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سولہ رمضان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں جہاد کیا، ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا، روزہ دار نے روزہ نہ رکھنے والے کو معیوب سمجھا اور نہ افطار کرنے والے نے روزہ دار کو معیوب سمجھا۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2020]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1116/93)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح