مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (ثَوَابُ الطَّعَامِ لِلصَّائِمِ)
روزے دار کے پاس کھانے سے روزے دار کو ثواب ملتا ہے
حدیث نمبر: 2081
2081 - وَعَنْ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا، فَدَعَتْ لَهُ بِطَعَامٍ، فَقَالَ لَهَا: (كُلِي) فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِنَّ الصَّائِمَ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَفْرَغُوا) . رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَالدَّارِمِيُّ.
ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تو انہوں نے آپ کے لیے کھانا منگوایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”کھاؤ۔“ انہوں نے عرض کیا، میں روزے سے ہوں، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب روزہ دار کے پاس کھایا جائے تو فرشتے اس کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ کھانے والے (کھانے سے) فارغ ہو جاتے ہیں۔“ صحیح، رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ والدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2081]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (365/6 ح 27599) و الترمذي (785 وقال: حسن صحيح .) و ابن ماجه (1748) والدارمي (17/2 ح 1745)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح