مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَعْضُ قَوَاعِدِ الْاعْتِكَافِ)
اعتکاف کی کچھ پابندیاں
حدیث نمبر: 2106
2106 - وَعَنْهَا قَالَتْ: السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدُ جِنَازَةً وَلَا يَمَسُّ الْمَرْأَةَ وَلَا يُبَاشِرُهَا وَلَا يَخْرُجُ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اعتکاف کرنے والے کے لیے مسنون یہی ہے کہ وہ کسی مریض کی عیادت کرے نہ جنازے میں شرکت کرے، عورت سے جماع کرے نہ اسے گلے لگائے اور کسی بہت ہی ضروری کام کے علاوہ اعتکاف کی جگہ سے باہر نہ نکلے، نیز روزے کے بغیر اعتکاف ہے نہ جامع مسجد کے بغیر۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ» ”اس کی سند ضعیف ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2106]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (2473)
٭ الزھري مدلس و عنعن .»
٭ الزھري مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف