مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فَضِيلَةُ سُورَةِ الْكَهْفِ)
سورۂ کہف کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2117
2117 - وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَإِلَى جَانِبِهِ حِصَانٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدْنُو وَتَدْنُو، وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:"تِلْكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سورۂ کہف پڑھ رہا تھا اور اس کے ایک جانب ایک گھوڑا دو مضبوط رسیوں سے بندھا ہوا تھا، پس بادل کے ایک ٹکڑے نے اس (آدمی) کو ڈھانپ لیا اور وہ اس کے قریب سے قریب تر ہونے لگا، جبکہ اس کا گھوڑا بدکنے لگا، جب صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سکینت تھی جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی تھی۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2117]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5011) و مسلم (795/240)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه