🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ عَوْنِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا فِي وَلَدِهِ:
باب: عورت اپنے خاوند کی مدد اس کی اولاد کی پرورش میں کر سکتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5367
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" هَلَكَ أَبِي وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟ قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنَاتٍ وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْ قَالَ: خَيْرًا".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے عمرو نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ میرے والد شہید ہو گئے اور انہوں نے سات لڑکیاں چھوڑیں یا (راوی نے کہا کہ) نو لڑکیاں۔ چنانچہ میں نے ایک پہلے کی شادی شدہ عورت سے نکاح کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ جابر! تم نے شادی کی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا، کنواری سے یا بیاہی سے۔ میں نے عرض کیا کہ بیاہی سے۔ فرمایا تم نے کسی کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ تم اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے اور وہ تمہارے ساتھ ہنسی کرتی۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ عبداللہ (میرے والد) شہید ہو گئے اور انہوں نے کئی لڑکیاں چھوڑی ہیں، اس لیے میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان کے پاس ان ہی جیسی لڑکی بیاہ لاؤں، اس لیے میں نے ایک ایسی عورت سے شادی کی ہے جو ان کی دیکھ بھال کر سکے اور ان کی اصلاح کا خیال رکھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت دے یا (راوی کو شک تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «خيرا‏.‏» فرمایا یعنی اللہ تم کو خیر عطا کرے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النَّفَقَاتِ/حدیث: 5367]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب میرے والد گرامی شہید ہوئے تو انہوں نے سات یا نو بیٹیاں چھوڑیں۔ میں نے ایک شوہر دیدہ عورت سے نکاح کیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے کہا: بیوہ سے نکاح کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی، تم اس سے دل لگی کرتے وہ تم سے اپنا دل بہلاتی، تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی؟ میں نے عرض کی: (میرے والد گرامی) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے کچھ بیٹیاں چھوڑ گئے۔ میں نے اس بات کو پسند نہ کیا کہ ان کے پاس ان جیسی (کوئی با تجربہ کار) لے آؤں اس لیے میں نے ایک ایسی عورت سے نکاح کیا جو ان کی نگہداشت اور اصلاح کرتی رہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے یا تمہیں بھلائی نصیب کرے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النَّفَقَاتِ/حدیث: 5367]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں