صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ الْمَرَاضِعِ مِنَ الْمَوَالِيَاتِ وَغَيْرِهِنَّ:
باب: آزاد اور لونڈی دونوں انا ہو سکتی ہیں یعنی دودھ پلا سکتی ہیں۔
حدیث نمبر: 5372
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ،" أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: وَتُحِبِّينَ ذَلِكِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي الْخَيْرِ أُخْتِي، فَقَالَ: إِنَّ ذَلِكِ لَا يَحِلُّ لِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَوَاللَّهِ إِنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا بِنْتُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ. وَقَالَ شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ: ثُوَيْبَةُ أَعْتَقَهَا أَبُو لَهَبٍ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے خبر دی، ان کو ابوسلمہ کی صاحبزادی زینب نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہن (عزہ بنت ابی سفیان) بنت ابی سفیان سے نکاح کر لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور تم اسے پسند بھی کرو گی (کہ تمہاری بہن تمہاری سوکن بن جائے)؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، اس سے خالی تو میں اب بھی نہیں ہوں اور میں پسند کرتی ہوں کہ اپنی بہن کو بھی بھلائی میں اپنے ساتھ شریک کر لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ یہ میرے لیے جائز نہیں ہے۔ (دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنا) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! واللہ اس طرح کی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ام سلمہ کی بیٹی۔ جب میں نے عرض کیا، جی ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ میری پرورش میں نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لیے حلال نہیں تھی وہ تو میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔ مجھے اور ابوسلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا۔ پس تم میرے لیے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو۔ اور شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے اور ان سے عروہ نے، کہا کہ ثوبیہ کو ابولہب نے آزاد کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النَّفَقَاتِ/حدیث: 5372]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! آپ میری بہن، ابوسفیان کی بیٹی سے نکاح کر لیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اسے پسند کرتی ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں، اب بھی میں کوئی تنہا تو آپ کے عقد میں نہیں ہوں، میں چاہتی ہوں کہ اگر کوئی بھلائی ہو تو اس میں میری جو شریک ہو وہ میری بہن ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو میرے لیے حلال نہیں۔“ میں نے کہا: ”اللہ کے رسول! «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ہمیں بیان کیا جاتا ہے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی درہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میرے زیرِ پرورش نہ ہوتی تو بھی میرے لیے حلال نہ تھی کیونکہ وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور ابوسلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا، لہذا تم مجھ پر اپنی بیٹیاں اور بہنیں پیش نہ کیا کرو۔“ ایک روایت میں ہے کہ ثوبیہ کو ابولہب نے آزاد کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النَّفَقَاتِ/حدیث: 5372]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة