مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (قَوْلُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَمَاعِ الْقُرْآنِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسروں سے قرآن سننے کا بیان
حدیث نمبر: 2195
2195 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ:"اقْرَأْ عَلَيَّ"قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ:"إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي"فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى أَتَيْتُ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ"فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا"قَالَ:"حَسْبُكَ الْآنَ"فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”مجھے قرآن سناؤ۔“ میں نے عرض کیا: میں آپ کو قرآن سناؤں، جبکہ وہ آپ پر نازل کیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے علاوہ کسی اور سے اسے سننا چاہتا ہوں۔“ میں نے سورہ النساء تلاوت کی حتیٰ کہ جب میں اس آیت ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [سورة النساء: 41] پر پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اب بس کرو۔“ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2195]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4582) و مسلم (247. 800/248)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه