🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (تَسْبِيحَةٌ تُقْرَأُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ وَآخِرِهِ)
دن کے شروع اور آخر میں پڑھنے والی تسبیح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2312
2312 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ ; كَانَ كَمَنْ حَجَّ مِائَةَ حَجَّةٍ  ، وَمَنْ حَمِدَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ ; كَانَ كَمَنْ حَمَلَ عَلَى مِائَةِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ هَلَّلَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ ; كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ مِائَةَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ ; لَمْ يَأْتِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَحَدٌ بِأَكْثَرِ مِمَّا أَتَى بِهِ إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، أَوْ زَادَ عَلَى مَا قَالَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتےہیں، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ سبحان اللہ کہتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے سو حج کیا ہو، جو شخص سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام الحمدللہ کہتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اللہ کی راہ میں سو گھوڑے فراہم کیے ہوں، جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) پڑھتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اسماعیل ؑ کی اولاد سے سو غلام آزاد کیے ہوں اور جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ ((اَللہُ اَکْبَرُ)) کہتا ہے تو روز قیامت اس سے بڑھ کر کوئی افضل عمل لے کر حاضر نہیں ہو گا مگر وہ شخص جس نے اس کے مثل یا اس سے زیادہ (یہ وظیفہ) کیا ہو گا۔ ترمذی، اور فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی (۳۴۷۱)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2312]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3471)
٭ ضحاک بن حمزة:ضعيف، وله متن آخر عند النسائي في عمل اليوم و الليلة (821) وسنده حسن و ليس فيه:’’مائة حجة‘‘»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں