🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (بَيَانُ فَضِيلَةِ «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» )
لا حول ولا قوۃ الا باللہ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2319
2319 - وَعَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ". قَالَ مَكْحُولٌ: فَمَنْ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا مَنْجًى مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ; كَشَفَ اللَّهُ عَنْهُ سَبْعِينَ بَابًا مِنَ الضُّرِّ، أَدْنَاهَا الْفَقْرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، وَمَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
مکحول، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: ” «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰہِ» ”اللہ کی مدد کے بغیر (برائی سے) بچنے کی کوئی طاقت ہے نہ (نیکی کرنے کی) کوئی قوت“ کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ وہ جنت کا خزانہ ہے۔“ مکحول نے فرمایا: جو شخص «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰہِ وَلَا مَنْجَأَ مِنَ اللّٰہِ إِلَّا إِلَیْہِ» ”اللہ کی مدد کے بغیر (برائی سے) بچنے کی کوئی طاقت ہے نہ (نیکی کرنے کی) کوئی قوت، اور اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں مگر اسی کی طرف“ پڑھتا ہے تو اللہ اس سے ستر قسم کی تکلیفیں دور فرما دیتا ہے اور ان میں سے سب سے کم فقر ہے۔ اسے ترمذی نے روایت کیا، اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس حدیث کی سند متصل نہیں، مکحول نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔ اس کی سند ضعیف ہے، اسے ترمذی (3601) اور ابن حبان (2338) نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2319]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3601)
٭ السند منقطع و للمرفوع شواھد عند ابن حبان (الموارد: 2338) وغيره وھو بھا صحيح، و قول مکحول لم يثبت عنه، في السند إليه أبو خالد الأحمر مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں