مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (النَّجَاةُ مَبْنِيَّةٌ عَلَى رَحْمَةِ اللَّهِ وَلَكِنْ...)
نجات کا مدار تو رحمت الٰہی پر ہے لیکن۔۔۔۔۔!!
حدیث نمبر: 2371
2371 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ ، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَتِهِ فَسَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَاغْدُوا، وَرُوحُوا بِشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ، وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کے اعمال اسے نجات نہیں دلائیں گے۔ “ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اور میں بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے، دُرستی کے ساتھ عمل کرتے رہو، میانہ روی اختیار کرو، صبح و شام اور رات کے کچھ حصہ میں عبادت کرو، اعتدال کا خیال رکھو، اعتدال کا خیال رکھو، اس طرح تم منزل پا لو گے۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2371]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6463) و مسلم (2816/51)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه