مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (وِرْدُ الصَّبَاحِ وَالمَسَاءِ)
صبح و شام پڑھنے والا وظیفہ
حدیث نمبر: 2399
2399 - وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ إِذَا أَمْسَى وَإِذَا أَصْبَحَ ثَلَاثًا رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.
ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی مسلمان آدمی صبح و شام تین مرتبہ کہتا ہے: «رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا» ”میں اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوں۔“ تو پھر اللہ پر حق ہے کہ وہ روزِ قیامت اس (شخص) کو راضی کرے۔“ صحیح، رواہ احمد و الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2399]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (لم أجده) والترمذي (3389 وقال: حسن غريب) و له شاھد عند أبي داود (5072) و ابن ماجه (3870) وغيرهما .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح