مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (دُعَاءُ الضَّيْفِ لِلْمُضِيفِ بَعْدَ الطَّعَامِ)
کھانے کے بعد میزبان کے لئے دعا
حدیث نمبر: 2427
2427 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَبِي فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً، فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى، وَفِي رِوَايَةٍ فَجَعَلَ يُلْقِي النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ، فَقَالَ أَبِي وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ: ادْعُ اللَّهَ لَنَا فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ) . (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
عبداللہ بن بُسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے والد کے پاس تشریف لائے تو ہم نے کھانا اور کھجور، گھی اور پنیر سے تیار کردہ حلوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے تناول فرمایا، پھر کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں کھاتے اور گٹھلیاں اپنی دو انگلیوں کے درمیان پھینکتے جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی اکٹھی کرتے تھے، اور ایک دوسری روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گٹھلیاں اپنی دونوں انگلیوں، انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کی پشت پر پھینک رہے تھے، پھر پانی پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا، پھر میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑتے ہوئے عرض کیا: ہمارے لیے اللہ سے دعا فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ» ”اے اللہ! تو نے جو کچھ انہیں عطا کیا ہے اس میں برکت فرما، ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحم فرما۔“ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2427]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2042/146)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح