مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (دُخُولُ السُّوقِ وَالدُّعَاءُ فِيهِ)
بازار میں داخل ہونے کی دعا
حدیث نمبر: 2431
2431 - وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: (مَنْ دَخَلَ السُّوقَ فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفَ حَسَنَةٍ، وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفَ سَيِّئَةٍ، وَرَفَعَ لَهُ أَلْفَ أَلْفَ دَرَجَةٍ، وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ"مَنْ قَالَ فِي سُوقٍ جَامِعٍ يُبَاعُ فِيهِ"بَدَلَ مَنْ دَخَلَ السُّوقَ.
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھتا ہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت اور حمد ہے، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، وہ زندہ ہے کبھی مرے گا نہیں، ہر قسم کی خیر و بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ تو اللہ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ لیتا ہے، اس کی دس لاکھ خطائیں معاف کر دیتا ہے، اس کے دس لاکھ درجات بلند کر دیتا ہے اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے۔“ ترمذی، ابن ماجہ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ اور شرح السنہ میں ”جو شخص بازار میں جائے“ کے الفاظ کے بجائے ”جس نے کسی بڑے تجارتی مرکز میں یہ دعا پڑھی۔“ کے الفاظ ہیں۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی وابن ماجہ وشرح السنۃ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2431]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3428) و ابن ماجه (2235) والبغوي في شرح السنة (132/5 ح 1338)
٭ فيه عمرو بن دينار قھرمان آل الزبير: ضعيف و للحديث شواھد ضعيفة و أخطأ من صححه بتلک الشواھد الضعيفة .»
٭ فيه عمرو بن دينار قھرمان آل الزبير: ضعيف و للحديث شواھد ضعيفة و أخطأ من صححه بتلک الشواھد الضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف