🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (دُعَاءُ رُكُوبِ المَطِيَّةِ)
سواری پر سوار ہوتے وقت کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2434
2434 - وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ: بِاسْمِ اللَّهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ  وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا، سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقِيلَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي يَقُولُ: يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي) . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی سواری کے لیے ایک جانور لایا گیا، جب انہوں نے رکاب میں پاؤں رکھا تو کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے۔“ جب اس کی پشت پر براجمان ہو گئے تو کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔“ پھر فرمایا: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ﴾ [سورة الزخرف: 13-14] ”پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع کر دیا جبکہ ہم تو اس کی قدرت نہیں رکھتے تھے، اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔“ پھر انہوں نے تین مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ اور تین مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، پھر کہا: «سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”پاک ہے تو، میں نے ہی اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا۔“ پھر وہ مسکرائے، ان سے پوچھا گیا: امیر المؤمنین! آپ کس چیز سے مسکرائے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا جس طرح میں نے کیا، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرائے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کس چیز سے مسکرائے ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تیرا رب اپنے اس بندے سے بہت خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي» ”اے میرے رب! میرے گناہ معاف کر دے۔“ رب تعالیٰ فرماتا ہے: ”وہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی اور گناہ معاف نہیں کرتا۔““ (صحیح، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2434]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (97/1 ح 753) و الترمذي (3446 وقال: غريب) و أبو داود (2602)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں