مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (طَوَافُ الْمَرِيضِ عَلَى دَابَّةٍ)
مریض کا سواری پر طواف کرنا
حدیث نمبر: 2588
2588 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنِّي أَشْتَكِي. فَقَالَ:"طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ"فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ الطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے اپنی بیماری کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرو۔“ میں نے طواف کیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب (بیت اللہ کی دیوار کے ساتھ) نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ﴿وَالطُّورِ﴾ [سورة الطور: 1] کی تلاوت فرما رہے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2588]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1619) و مسلم (1276/258)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه