مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (وَاوِيلَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ قَبُولِ دُعَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہونے پر شیطان کا واویلہ
حدیث نمبر: 2603
2603 - وَعَنْ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا لِأُمَّتِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالْمَغْفِرَةِ ، فَأُجِيبَ:"إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلَا الْمَظَالِمَ، فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ"قَالَ:"أَيْ: رَبِّ، إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ، وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ"فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ، فَأُجِيبَ إِلَى مَا سَأَلَ. قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَ تَبَسَّمَ - قَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا، فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ - أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ؟ قَالَ:"إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ، عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي، وَغَفَرَ لِأُمَّتِي، أَخَذَ التُّرَابَ، فَجَعَلَ يَحْثُوهُ عَلَى رَأْسِهِ، وَيَدْعُو بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ، فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهِ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي: كِتَابِ"الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ"نَحْوَهُ.
عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وقوفِ عرفات میں اپنی امت کی مغفرت کے لیے دعا فرمائی تو قبولیت کا جواب آیا کہ ”میں نے حقوق العباد کے سوا باقی سب گناہ معاف کر دیے، کیونکہ میں اس سے مظلوم کا حق لوں گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کیا: ”رب جی! اگر آپ چاہیں تو مظلوم کو جنت عطا کر دیں اور ظالم کو بخش دیں۔“ لیکن اس قیام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول نہ ہوئی، تو جب مزدلفہ میں صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا دہرائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول کر لی گئی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسے یا تبسم فرمایا تو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: میرے والدین آپ پر قربان ہوں، یہ تو ایسا وقت ہے کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسا نہیں کرتے تھے، آپ کو کس چیز نے ہنسایا، اللہ تعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے دشمن ابلیس کو جب پتا چلا کہ اللہ عزوجل نے میری دعا قبول فرما کر میری امت کو بخش دیا ہے تو وہ اپنے سر میں مٹی ڈالنے لگا اور تباہی و ہلاکت کو پکارنے لگا، جب میں نے اس کی بے صبری دیکھی تو مجھے ہنسی آ گئی۔“ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ» (سند ضعیف ہے، اسے ابنِ ماجہ اور بیہقی نے روایت کیا ہے)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2603]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (3013) و البيھقي في البعث والنشور (لم أجده، و في شعب الإيمان: 346)
٭ عبد الله بن کنانة و أبوه مجھولان و قال البخاري في ھذا الحديث: ’’لم يصح حديثه .‘‘»
٭ عبد الله بن کنانة و أبوه مجھولان و قال البخاري في ھذا الحديث: ’’لم يصح حديثه .‘‘»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف