مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (رَمْيُ الْحَصَى مَعَ قَوْلِ "اللَّهُ أَكْبَر")
اللہ اکبر کہہ کر کنکری ماری جائے
حدیث نمبر: 2621
2621 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى، فَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ، وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ، وَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جمرہٴ کبریٰ (بڑے شیطان) کے پاس پہنچے، انہوں نے بیت اللہ کو اپنی بائیں جانب اور منیٰ کو اپنی دائیں جانب رکھا اور سات کنکریاں ماریں، وہ ہر کنکری کے ساتھ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے، پھر انہوں نے فرمایا: جس ذاتِ اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سورہ البقرہ نازل ہوئی تھی، انہوں نے بھی اسی طرح کنکریاں ماری تھیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2621]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1747) و مسلم (305. 309/ 1296)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه