مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَعْظَمُ الْأَيَّامِ)
سب سے بڑا دن
حدیث نمبر: 2643
2643 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ". قَالَ ثَوْرٌ: وَهُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي. قَالَ: وَقُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ، فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ، فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا قَالَ: فَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا، فَقُلْتُ: مَا قَالَ، قَالَ: مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَذَكَرَ حَدِيثَا ابْنِ عَبَّاسٍ وَجَابِرٍ فِي"بَابِ الْأُضْحِيَّةِ".
عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے عظیم دن قربانی کا دن ہے، پھر (منیٰ میں) قرار پکڑنے (گیارہ ذوالحجہ) کا دن ہے۔“ ثور رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سے قربانی کا دوسرا دن مراد ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانچ یا چھ قربانی کے اونٹ پیش کیے گئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہونے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس سے ابتدا فرمائیں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب وہ پہلوؤں کے بل گر پڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی ہلکی سی بات کہی جسے میں سمجھ نہ سکا، تو میں نے (اپنے پاس والے شخص سے) کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص چاہے اس سے گوشت کاٹ کر لے جائے۔“ ابوداؤد۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث باب الاضحیہ میں ذکر کی گئی ہے۔ اسنادُہٗ صحیح، رواہُ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2643]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (1765)
حديث ابن عباس تقدم (1469) و حديث جابر تقدم (1458)»
حديث ابن عباس تقدم (1469) و حديث جابر تقدم (1458)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح