مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فَضِيلَةُ مَاءِ زَمْزَمَ)
زم زم کے پانی کی فضیلت
حدیث نمبر: 2663
2663 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ، فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا فَضْلُ، إِلَى أُمِّكَ فَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا، فَقَالَ:"اسْقِنِي"فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ. قَالَ:"اسْقِنِي"فَشَرِبَ فِيهِ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ ، وَهُمْ يَسْقُونَ، وَيَعْمَلُونَ فِيهَا، فَقَالَ:"اعْمَلُوا، فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ"ثُمَّ قَالَ:"لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا، لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ". وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی پینے کی جگہ پر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب کیا تو عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فضل! اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور ان کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پانی لے کر آؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے (یہیں سے) پلاؤ۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! لوگ اپنے ہاتھ اس میں ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے (یہیں سے) پلاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی میں سے نوش فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زم زم پر تشریف لائے تو لوگ وہاں پانی پلا رہے تھے اور خوب محنت کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کام کرتے رہو، کیونکہ تم ایک نیک کام میں مشغول ہو۔“ پھر فرمایا: ”اگر لوگ تم پر غالب نہ آ جائیں تو میں بھی اپنی سواری سے اتر آتا حتی کہ میں رسی اس پر رکھ لیتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ فرمایا۔ (رواہ البخاری) [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2663]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1635)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح