مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَا يَفْعَلُهُ المُشْتَرِي إِذَا أَصَابَتْهُ آفَةٌ بَعْدَ شِرَاءِ الفَاكِهَةِ)
پھل بیچنے کے بعد خریدار پر کوئی آفت آ جائے تو کیا کرے
حدیث نمبر: 2842
2842 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"لَوْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ؟". رُوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اپنے (کسی مسلمان) بھائی کو پھل فروخت کرو اور پھر اس پر کوئی آفت آ جائے تو تمہارے لیے اس سے کچھ لینا حلال نہیں، تم اپنے بھائی کا مال ناحق کس چیز کے بدلے حاصل کرو گے؟“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2842]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1554/14)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح