🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (الشَّهَادَةُ مِرَارًا لَا تُكَفِّرُ القَرْضَ)
بار بار شہید ہو جانا بھی قرض کا کفارہ نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2929
2929 - وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ حَيْثُ يُوضَعُ الْجَنَائِزُ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَصَرَهُ قِبَلَ السَّمَاءِ فَنَطَرَ، ثُمَّ طَأْطَأَ بَصَرَهُ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، قَالَ:"سُبْحَانَ اللَّهِ! سُبْحَانَ اللَّهِ! مَاذَا نَزَلَ مِنَ التَّشْدِيدِ؟"قَالَ: فَسَكَتْنَا يَوْمَنَا وَلَيْلَتَنَا، فَلَمْ نَرَ إِلَّا خَيْرًا حَتَّى أَصْبَحْنَا. قَالَ مُحَمَّدٌ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نَزَلَ؟ قَالَ:"فِي الدَّيْنِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ عَاشَ، ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ عَاشَ، ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَاشَ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى دَيْنُهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي"شَرْحِ السُّنَّةِ"نَحْوَهُ.
محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم مسجد کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے، جہاں جنازے رکھے جاتے تھے، جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا پھر نظر کو جھکایا اور اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھ کر (تعجب سے) فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ! سُبْحَانَ اللّٰهِ!» پاک ہے اللہ! پاک ہے اللہ! کیسی سختی نازل ہوئی۔“ راوی بیان کرتے ہیں، ہم دن بھر اور پوری رات خاموش رہے، اور ہم نے خیر ہی خیر دیکھی، حتی کہ صبح ہو گئی، محمد (راوی) بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، وہ کون سا عذاب ہے جو نازل ہوا؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”قرض کے بارے میں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) کی جان ہے! اگر کوئی آدمی اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جائے، وہ پھر زندہ ہو، پھر اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جائے، پھر زندہ ہو، پھر اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جائے، پھر زندہ ہو اور اس کے ذمے قرض ہو تو وہ جنت میں نہیں جائے گا، حتی کہ اس کا قرض ادا کر دیا جائے۔“ (اسے امام احمد نے روایت کیا اور شرح السنہ میں اس کی مثل ہے)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2929]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (289/5. 290 ح 22860) و البغوي في شرح السنة (201/8 ح 2145) [والنسائي 314/7، 315ح 4688] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں