مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَسْأَلَةُ جَمْعِ الفَاكِهَةِ السَّاقِطَةِ مِنَ الشَّجَرِ)
درخت سے گرے ہوئے پھل اٹھانے کا مسئلہ
حدیث نمبر: 2957
2957 - وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ:"كُنْتُ غُلَامًا أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:"يَا غُلَامُ! لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ؟"قُلْتُ: آكُلُ. قَالَ:"فَلَا تَرْمِ، وَكُلْ مِمَّا سَقَطَ فِي أَسْفَلِهَا"ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ فَقَالَ"اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فِي"بَابِ اللُّقَطَةِ"إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں چھوٹا سا لڑکا تھا اور میں انصار کے کھجوروں کے درختوں پر پتھر پھینک رہا تھا، تو مجھے (پکڑ کر) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے! تم نے کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں پھینکے؟“ میں نے عرض کیا، کھجوریں کھانے کے لیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پتھر نہ مارو، جو نیچے گری ہوں ان میں سے کھاؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور دعا کی: ”اے اللہ! اس کے پیٹ کو بھر دے۔“ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ» «وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فِي بَابِ اللُّقْطَةِ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی» ”اور عمرو بن شعیب کی حدیث کو ہم ان شاء اللہ باب اللقطہ میں ذکر کریں گے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2957]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1288 وقال: حسن صحيح غريب) و أبو داود (2622) و ابن ماجه (2299)
٭ فيه ابن أبي الحکم: لم يوثقه غير الترمذي فھو ’’مستور‘‘ کما قال صاحب التقريب .
حديث عمرو بن شعيب يأتي (3036)»
٭ فيه ابن أبي الحکم: لم يوثقه غير الترمذي فھو ’’مستور‘‘ کما قال صاحب التقريب .
حديث عمرو بن شعيب يأتي (3036)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف