صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَنْ ذَبَحَ ضَحِيَّةَ غَيْرِهِ:
باب: جس نے دوسرے کی قربانی ذبح کی۔
حدیث نمبر: Q5559
وَأَعَانَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ فِي بَدَنَتِهِ وَأَمَرَ أَبُو مُوسَى بَنَاتِهِ أَنْ يُضَحِّينَ بِأَيْدِيهِنَّ.
ایک صاحب نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ان کے اونٹ کی قربانی میں مدد کی ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی لڑکیوں سے کہا کہ اپنی قربانی وہ اپنے ہاتھ ہی سے ذبح کریں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: Q5559]
حدیث نمبر: 5559
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ:" مَا لَكِ أَنَفِسْتِ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، اقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ"، وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مقام سرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے، کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ اس لیے حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج انجام دو صرف کعبہ کا طواب نہ کرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5559]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”مقام سرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟ کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو اللہ تعالیٰ نے بناتِ آدم کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ اس بنا پر تو دوسرے حاجیوں کی طرح تمام اعمالِ حج ادا کر، صرف بیت اللہ کا طواف نہ کر۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی دی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5559]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة