مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (حَقُّ المَرْأَةِ فَائِقٌ فِي مَسْأَلَةِ الإِذْنِ)
اجازت کے مسئلے میں عورت کا حق فائق ہے
حدیث نمبر: 3127
3127 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تَسْتَأْذِنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صِمَاتُهَا. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ وَإِذْنُهَا سُكُوتُهَا . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صِمَاتُهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے، جبکہ کنواری سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت طلب کی جائے گی، اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے۔“ ایک روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے جبکہ کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے۔“ ایک دوسری روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے، جبکہ کنواری کے متعلق اس کا والد اس سے اجازت طلب کرے گا اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3127]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1421/66)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح